نئی دہلی،22؍جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) گجرات کے گاندھی نگر ریپ کیس معاملے میں آسا رام کو سپریم کورٹ سے پیر کو بھی راحت نہیں ملی ہے۔آسارام فی الحال جیل میں رہیں گے اور کورٹ اس معاملے میں اب 8 ہفتے بعد سماعت کرے گا۔ اس معاملے میں 29 جنوری کو گجرات کی زیریں عدالت میں متاثرہ کا بیان درج ہونا ہے متاثرہ کا بیان درج ہونے کے بعد ہی ضمانت کی درخواست پر غور کیا جائے گا۔آسارام کی جانب سے عدالت میں کہا گیا کہ ان کی عمر زیادہ ہو چکی ہے اور صحت کی دیکھ بھال کرنے میں پریشانی بھی ہے لہٰذا ایسی صورت میں ضمانت کی درخواست پر جلد سماعت ہونی چاہئے۔ دراصل گجرات کے گاندھی نگر میں ریپ معاملے میں سپریم کورٹ آسارام کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کر رہا ہے۔گزشتہ سماعت میں عدالت نے آسا رام کے خلاف سست سماعت پر سوال اٹھائے اور گجرات حکومت سے پوچھا تھا کہ کیس کی سماعت میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟ سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت سے پوچھا ہے کہ ابھی تک متاثرہ کے بیان کیوں نہیں درج کئے گئے۔ سپریم کورٹ نے گجرات حکومت سے کہا ہے کہ وہ حلف نامہ دائر کرکے کیس کی پیش رفت کے بارے میں بتائے۔دراصل ریپ کے معاملے میں 12 اپریل 2017 کو سپریم کورٹ نے گجرات حکومت سے کہا تھا کہ آسا رام کے خلاف مقدمے کی سماعت کے لیے لٹکائے نہ رکھے۔ اس معاملے میں جہاں تک ممکن ہو سکے تو گواہوں کے بیان درج کروائیں جائیں کیونکہ آسارام طویل وقت سے جیل میں ہیں۔ گجرات حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اس معاملے میں گواہوں کو لے کر تیزی سے کاروائی چل رہی ہے۔ 29 گواہوں کے بیان درج ہو چکے ہیں اور 46 کے بیان درج ہونا ابھی باقی ہیں۔ اس درمیان دو گواہوں کو قتل کر دیا گیا اور بہت سے زخمی ہوئے ہیں۔وہیں آسارام نے سپریم کورٹ سے کہا تھا کہ وہ حکومت کو حکم دے کہ گواہوں کے بیان درج کرانے میں جلدی کرے۔دراصل آسارام نے سپریم کورٹ میں ضمانت کی عرضی لگائی تھی لیکن سپریم کورٹ نے عرضی کو ٹھکراتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک کیس کے گواہوں کے بیان ٹرائل کورٹ میں درج نہیں ہو جاتے اس وقت وہ معاملے کی سماعت نہیں کرے گا۔